18 مارچ 2010 - 20:30

عراق کے بزرگ مرجع تقلید آیت اللہ العظمی سیستانی کی شان میں سعودی عرب کے شیوخ کے اہانت آمیز بیانات کے خلاف عراق ميں عوام نے بھرپور مظاہرے کرکے سعودی عرب کے شیوخ کی گستاخیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے ۔

اطلاعات کے مطابق مظاہروں کا یہ سلسلہ بدستورجاری ہے ۔بصرہ کے عوام نے بھی ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کرکے آیت اللہ سیستانی کی شان میں ایک سعودی ملا کی اہانت کی مذمت کرتے ہوئے عراقی حکومت اورپارلیمنٹ سے مطالبہ کیا کہ وہ وہ سعودی عرب کے مذہبی اداروں کی طرف سے جاری کئے جانے والے تکفیری فتوؤں اوراہانتوں کا سخت نوٹس ليں ۔ عراق کے ہی ناصریہ دیوانیہ اورالعمارہ شہروں کے باشندوں نے بھی احتجاجی مظاہرے کرکےآيت اللہ سیستانی کی شان میں سعودی عرب کے شہرریاض کے امام جمعہ کے اہانت آمیزبیانات پراپنے شدید غم وغصہ کا اظہارکیا مظاہرین نے اعلان کیا کہ عالم اسلام کے دشمنوں کویہ جان لینا چاہئے کہ وہ شیعہ وسنی مسلمانوں کے اتحاد کوکبھی کبھی پارہ پارہ نہيں کرسکتے واضح رہے کہ سعودی  عرب کے ریاض شہرکے امام جمعہ العریفی نے اپنے ایک بیان میں آیت اللہ سیستانی کی اہانت کی ہے جس پرعراقی حکومت اورعوام نے اپنے شدید غم وغصہ کا اظہارکیا ہے ۔ عراقی وزیراعظم نوری مالکی نے نجدی فکر کے حامل ملاؤں کے شیعہ فقہا اورمراجع کرام کی شان میں توہین آمیزبیانات پرشدید تنقید کرتے ہوئے سعودی عرب کی حکومت کو اس کا ذمہ دارقراردیا ۔ عراقی پارلیمنٹ نے بھی شیخ العریفی کے توہین آمیزبیان کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی حکومت سےمطالبہ کیا ہے کہ وہ اس طرح کی حرکتوں کا سخت نوٹس لے اوراپنا موقف واضح کرے یہاں پرسب سے اہم بات یہ ہے کہ عراق کے اہل سنت علماء نے بھی شیعہ علماء کی ہی طرح آيت اللہ سیستانی کی اہانت پرسعودی ملاؤں پرشدید برہمی کا اظہارکیا ہے اوراس کی مذمت کی ہے جماعت علماء عراق کے سربراہ شیخ الملاء نے علماء تشیع کے خلاف  بعض وہابی ملاؤں کے توہین آمیزبیانات کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طورپر اس طرح کے اقدامات کو روکے۔ سعودی عرب کے بھی بعض علماء نے شیعہ علماء کے خلاف وہابی ملاؤں کے باربار اہانت آمیزبیانات کی مذمت کرتے ہوئے حکومت آل سعود سے مطالبہ کیا کہ وہ اس طرح کے اقدامات پرکاروائي کرے اورآيت اللہ سیستانی کی شان میں کی گئي اہانت پرا پنا موقف واضح کرے درايں اثناء بعض ذرا‏ئع ابلاغ نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب کی خفیہ ایجنسیوں نے عراق کے سلسلے میں خطرنا ک منصوبے تیارکئے ہيں ۔ عراق میں پھلتی ہوئی جمہوریت سے سعودی عرب کی شاہی حکومت جہاں اپنے وجود کے لئے خطرہ لاحق ہے وہيں اسے عراق میں اکثریتی شیعوں کی حکومت میں موجودگی بھی پھوٹی آنکھ نہيں بھارہی ہے اسی لئے سعودی عرب کی حکومت کی کوشش ہے کہ وہ عراق کے شیعہ وسنی مسلمانوں کے درمیان مذہبی اورفرقہ وارانہ اختلافات پیداکرکے عراق کوغیرمستحکم کرے اس کے ساتھ ہی ایک بات واضح ہے وہ یہ کہ سعودی عرب کو اب تک اس سلسلے کوئي کامیابی نہیں مل سکی ہے کیونکہ عراق کے شیعہ وسنی علماء نے ہوشیاری وبصیرت کا مظاہرہ کیا ہے اور باہمی اتحاد پرآنچ نہيں آنے دی ہے ۔